جمعہ، 24 اکتوبر، 2014

علامہ اقبال کے ایک شعر کی تشریح

قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

یہ شعر علامہ محمداقبال کی کتاب ضرب کلیم کی نظم مرد مومن کا دوسرا شعر ہے۔ جیسا کہ اس نظم کے عنوان سے واضح ہے کہ پوری نظم اس مثالی مرد مومن کے کردار کے مختلف پہلووں کو بیان کرتی ہے۔ مرد مومن اقبال کی شاعری کے مرکزی تصورات میں سے ایک تصور ہے۔ سو اس لحاظ سے یہ شعر اپنے اندر دو بنیادی تناظر رکھتا ہے۔ اولا ًیہ کہ مسلمان کے کردار کی تشکیل کے لیے چار بنیادی اوصاف ضروری ہیں جو اس کے پہلے مصرعے میں بیان کیے گئے ہیں۔ یہ چاروں اوصاف کردار کے جلالی اور جمالی دونوں پہلووں کا حاطہ کرتے ہیں۔ ان اوصاف کے بیان کی ترتیب بھی اقبال کی فکر کی عکاس ہے اور وہ اس شعر کا دوسرا تناظر ہے۔ یعنی اقبال نے اس شعر کے پہلے مصرعے میں بیان کردہ چاروں اوصاف کی ترتیب اور عنوان و مضمون قرآن حکیم کی ایک آیت سے اخذ کیے ہیں اور یہ اقبال کی فکر کا امتیاز ہے کہ وہ اپنے ہر تصور کی تشکیل قرآن حکیم ہی کی رہنمائی میں کرتے ہیں۔ اس شعر کے پہلے مصرعے میں بیان کردہ چاروں اوصاف کا ماخذ سورہ فتح کی آیت 29 ہے:

مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنْ اللَّهِ وَرِضْوَاناً۔
ترجمہ: محمد اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ آپ کی معیت میں ہیں )وہ( کافروں پر بہت سخت اور زور آور ہیں آپس میں بہت نرم دل ہیں۔ آپ انہیں کثرت سے رکوع کرتے اور سجود کرتے ہوئے دیکھتے ہیں وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے طلب گار رہتے ہیں۔

اس آیت کی روشنی میں بندہ مومن کے اوصاف یہ ہیں:

      1-     أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ: قہاری
      2-     رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ: غفاری
      3-     تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً: قدوسی
      4-     يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنْ اللَّهِ وَرِضْوَاناً: جبروت

یہاں ہمیں یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ اس آیت مبارکہ کا آغاز مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ سے ہو رہا ہے۔ یعنی بندہ مومن کا کردار جو ان چار اوصاف پر مشتمل ہو گا،  اس کی اساس نسبت رسالت پر استوار ہو گی۔ جسے اقبال نے اپنے دیگر کئی اردو اور فارسی اشعار میں بیان کیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں