جمعرات، 23 اکتوبر، 2014

اقبال فروشی اور اقبال فراموشی

ہمارے معاشرے کے فکر ی قحط کا یہ عالم ہے کہ اہل دانش اور اہل قلم جن سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ معاشرے میں کسی صحت مند مکالمے کے آغاز کا باعث بنیں گے، اکثر و بیشتر منفی پراپیگنڈے اور مباحثے کا باعث بنتے نظر آتے ہیں۔ یہاں اکثر و بیشتر قومی امور مثلاً نظریہ پاکستان ، قائد اعظم کی شخصیت و خدمات، اور اقبال کی فکر، شاعری اور ان کے جذبہ حریت کو موضوع بحث بنا کر فکری انتشار پیدا کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اقبال کی ملی خدمات اور تشخص روز روشن کی طرح عیاں ایسی حقیقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔ تاہم المیہ یہ ہے کہ ہم یا تو اقبال کے افکار کو اپنا ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں یا پھر اپنے چھوٹے قد کو بڑا کرنے کے لیے اقبال کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ کاش ہم اقبال کے ان افکار کا بھی جائزہ لیتے جن کا تعلق ہمارے مسائل کے حل سے ہے چاہے ان کا جائزہ تنقیدی انداز سے ہی لیا جاتا۔
ہماری تاریخ گواہ ہے کہ شعوری طور پر یہ کوششیں کی گئی ہیں کہ اقبال کے افکار قوم کی نگاہوں سے اوجھل ہی رہیں اور اصل اقبال متعارف نہ ہو ۔ کیونکہ جس دن قوم میں اقبال کی حقیقی فکر فروغ پذیر ہو گئی مذہب، روحانیت اور نام نہاد خدمت کے نام کی سیاست کی دکانیں بند ہو جائیں گی اور قوم کو گزشتہ کئی دہائیوں سے بے وقوف بنانے کا سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا۔ اقبال کی ساری زندگی قوم کو انہی خامیوں سے آگاہ کرنے اور قومی مفاد کے لیے جدوجہد کرتے گزری۔ تاریخ کے کسی واقعہ کی آڑ لے کر اور تاریخی حقائق کو پس منظر سے ہٹا کر بیان کرنے سے اقبال کاتسخص مسخ نہیں کیا جا سکتا۔
سر سکندر حیات نے انٹر کالجیٹ مسلم برادر ہڈ لاہور کے نام پیغام میں کہا کہ ہمیں اقبال کی علمی اورملی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی خدمت میں بصورت زر خراج تحسین پیش آنا چاہیے۔ اس پرعلامہ نے جوابی بیان دیا جو اخبارات میں ۱۰دسمبر ۱۹۳۷ءکو شائع ہوا۔ اس بیان میں علامہ نے فرمایا کہ عوام کی ضروریات بحیثیت مجموعی کسی ایک فرد کی ضروریات سے کہیں زیادہ اہم ہوتی ہیں۔ خواہ اس کی تصانیف عامۃ الناس کے لیے روحانی فیضان کا ذریعہ ہی کیوں نہ ہوں۔ ایک شخص اور اس کی ضروریات ختم ہو جاتی ہیں لیکن عوام اور ان کی ضروریات ہمیشہ باقی رہتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی علامہ نے تجویز پیش کی کہ وزیر اعظم سر سکندر حیات انہیں بصورت زر کوئی ہدیہ پیش کرنے کی بجائے اسلامیہ کالج لاہورمیں ایسا تحقیقی شعبہ قائم کریں جو نہ صرف پنجاب بلکہ ہندوستان کے عوام کی تحقیقی ضروریات پوری کرے۔ اس کے ساتھ علامہ نے خود بھی اس شعبے کے قیام کے لیے اس فنڈ میں اپنی طرف سے سو روپے پیش کیے۔ کیا ہم نے علامہ کے اس کردار کو عام کرنے کی کوشش کی کہ ہمارے رہنما قومی ترجیحات کو ذاتی ترجیحات پر ترجیح دیں؟ علامہ کے اس کردار کو عوام میں عام کرنے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے نہ صرف اپنے نصب اور اثر و رسوخ کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ اکثرجائز مفادات کو بھی ترک کردیا۔ علامہ کا ذریعہ آمدنی وکالت تھا۔ وہ ہندوستان کی معروف ترین شخصیت اور قابل بیرسٹر تھے۔ اگر وہ اس پیشے کو بھی کل وقتی طور پر اختیار کرتے و بیش بہا سرمایہ کما سکتے تھے۔ مگر انہوں نے اپنے معاون منشی طاہر الدین کو ہدایت دے رکھی تھی کہ جب کسی مقدمے میں۵۰۰  روپے فیس آجائے تو اس کے بعدوہ کوئی کیس نہ لیں کیونکہ ۵۰۰ روپے ان کے ماہانہ اخراجات کے لیے کافی ہیں۔ بقیہ وقت وہ قومی امور پر صرف کرتے تھے۔
مجلس قانون ساز کا رکن ہونے کے دوران بھی اقبال کی کاوشیں عام آدمی کو تحفظ فراہم کرنے اور انہیں حقوق دلوانے کے لیے تھیں۔ ہمارے ایسے اہل قلم جو رکن اسمبلی بھی رہ چکے ہیں، نے کبھی علامہ کی ان کاوشوں کو موضوع بحث نہیں بنایا۔ اگر اقبال کے پارلیمانی زندگی اور اسمبلی میں قانون سازی کی کاوشوں کو ہی ہم نے عام کیا ہوتا اور ان خطوط پر قانون سازی کے عمل کو آگے بڑھاتے تو استعمار کے دور کے بعد سے ہمیں منتقل ہونے والے نظام کی اصلاح کا عمل بھی آگے بڑھتا۔ یہاں ہم بطور مثال پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی میں علامہ کی ۲۳ فروری ۱۹۲۸ءکی تقریر کا حوالہ دیتےہیں جو علامہ نے انکم ٹیکس کے اصولوں کو لینڈ ریونیو پر عائد کرنے کی قراردار پر کی۔ علامہ نے اپنی اس تقریر میں ہر اس ضابطے کی سختی سے مخالفت کی جو انصاف کے تقاضوں کے منافی اور عام کاشتکار کے لیے خود کشی کا باعث ہو۔ علامہ نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ محاصل اراضی سے متعلق جو بھی قانون بنایا جائے چاہے وہ قابل عمل ہو اور اس کی پشت پر دیرینہ روایات بھی موجود ہوں مگر اسے نافذ کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا وہ مبنی بر انصاف اور غریب کاشتکاروں کے لیے معاشی امکانات کا حامل نبھی ہے یا نہیں۔ علامہ نے تجویز پیشکی کہ ایسے اقدامات درکار ہیں جن سے چھوٹے زمینداروں کے لےے جن کی زمینی پیداوار ان کے خاندان کی پرورش کے لیے بھی قطعی ناکافی ہے کوئی بہتری کی صورت نکل سکے۔
زمین سے استفادہ کے بارے میں بھی اقبال کے موقف کو کبھی عام نہیں کیا گیا کیونکہ اس موقف کو عام کرنے میںجاگیرداریت اور سرمایہ داریت کی موتہے۔ بال جبریل میں علامہ فرماتے ہیں:

پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون
کون دریاوں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب؟
کون لایا کھینچ کر پچھم سے بادِ سازگار
خاک یہ کس کی ہے، کس کا ہے یہ نورِ آفتاب؟
کس نے بھر دی موتیوں سے خوشہ گندم کی جیب
موسموں کو کس نے سکھائی ہے خوئے انقلاب؟
دہ خدایا! یہ زمیں تیری نہیں، تیری نہیں
تیرے آبا کی نہیں، تیری نہیں، میری نہیں

اقبال نے مُلاپرزندگی بھر تنقید کی اور مُلائیت کے اثرات سے قوم کو نکالنے کی جدوجہد کی۔ آج اقبال کا کلام ہر منبر و محراب کی زینت ہے ۔ مگر یہاں اقبال کے صرف ان تصورات کو بیان کیاجاتا ہے جو ہمارے ذاتی ایجنڈے کی تکمیل میں ممد و معاون ہیں۔ عشق رسول اقبال کی پہچان ہے۔ بلکہ اگردور حاضر میں مجسمہ عشق رسول کا تصور کریں تو اقبال کی شخصیت سامنے آتی ہے۔ اقبال کے یہ اشعار زبان زد عام ہیں:

تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
ور تو می بینی حسابم ناگزیر
از نگاہ مصطفی پنہاں بگیر

     لیکن اقبال کس عشق رسول کی قائل تھے، اسے نہ تو ہم نے کبھی سمجھنے کی کوشش کی نہ ہی عام کرنے کی۔ اس کا ایک رخ یہ ہے کہ نواب بھوپال نے علامہ کو کسی معاملے میں مشورے کے لیے بلایا۔ جب علامہ بھوپال تشریف لے گئے تو رات آرام کے لیے انہیں اس کمرے میں لے جایا گیا جو ان کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ جب علامہ نے کمرے کے نرم و دبیز بستر اور پر آسائش ماحول کو دیکھا تو آبدیدہ ہو گئے۔ علی بخش کو بلایا اور اسے حکم دیا کہ وہ ان کا لایا ہوا اپنا بستر برآمدے میں چھا دے۔ علامہ نے فرمایا کہ جس رسول گرامی کے تصدق سے انہیں ایمان اور دین کی دولت ملی وہ تو بغیر بسترچارپائی پر آرام فرمائیں اور میں ایسے پر تعیش ماحول میں! کیا ہمارے نمائندگانِ دین کی زندگی ہی عشق رسول کا یہ رنگ نظر آتا ہے؟سچ تو یہ ہے کہ ہم نے عشق رسول کو صرف قوم کے جذباتی استحصال کا ذریعہ بنایا ہے اور اس جذبے کو قومی کردار کی تشکیل کی راہ پر نہیں ڈالاکیونکہ اس سے ہماری آسائشوں اور ذاتی نمود و نمائش پرزد پڑتی ہے۔
پاکستان کے قیام سے اقبال کس قومی مقصد کا حصول چاہتے تھے؟ قائد اعظم کے نام اقبال کے خطوط ، ان کی شاعری، سیاسی بیانات، تقاریر اور تحریریں اس کی تفصیل بیان کر تی ہیں۔ یہاں صرف ایک نکتے کی طرف اشارہ کافیہو گا کہ علامہ پاکستان کے قیام کے ذریعے اسلام کے عقیدہ توحید کے عملی نفاذ کے متمنی تھے۔ علامہ فرماتے ہیں:
بالفاظ دیگر یوں کہیے کہ بنی نوع انسان کی اقوام کو باوجود شعوب و قبائل اور الوان و السنہ کے اختلافات کو تسلیم کر لینے کے ان کو ان تمام آلودگیوں سے منزہ کیا جائے جو زبان، مکان، وطن، نسل، نسب، ملک وغیرہ کے ناموں سے موسوم کی جاتی ہیں اور اس طرح پیکر خاکی کو وہ ملکوتی تخیل عطا کیا جائے جو اپنے وقت کے ہر لحظہ میں ”ابدیت“ سے ہمکنار رہتا ہے اور یہ ہے مقام محمدی، یہ ہے نصب العین ملت اسلامیہ کا اس کی بلندیوں تک پہنچنے تک معلوم نہیں حضرتِ انسان کو کتنی صدیاں لگیں مگر اس میں بھی شک نہیں کہ اقوام عالم کی باہمی مغائرت دور کرنے اور باوجود شعوبی، قبائلی، نسلی، لونی اور لسانی امتیازات کے ان کو یک رنگ کرنے میں اسلام نے وہ کام تیرہ سو سال میں کیا ہے جو دیگر ادیان سے تین ہزار سال میں بھی نہ ہو سکا یقین جانیے کہ دین اسلام ایک پوشیدہ اور غیر محسوس حیاتی اور نفسیاتی عمل ہے جو بغیر کسی تبلیغی کوششوں کے بھی عالم انسانی کے فکر و عمل کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایسے عمل کو حال کے سیاسی مفکرین کی جدت طرازیوں سے مسخ کرنا ظلم عظیم ہے نبی نوع انسان پر اور اس نبوت کی ہمہ گیری پر جس کے قلب و ضمیر سے اس کا آغاز ہوا۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر اس سیاسی تصور کو عام کیا جاتا تو پاکستان میں علاقائی، نسلی، لسانی بتوں کے تراشنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہتی اور پاکستانی قوم اقوام عالم میں ایک جسد واحد بن کر سامنے آتی:
حضور رسالتمآب کے لیے یہ راہ بہت آسان تھی کہ آپ ابو لہب یا ابو جہل یا کفارِ مکہ سے یہ فرماتے کہ تم اپنی بت پرستی پر قائم رہو ہم اپنی خدا پرستی پر قائم رہتے ہیں مگر اس نسلی اور وطنی اشتراک کی بنا پر جو ہمارے اور تمہارے درمیان موجود ہے ایک وحدت عربیہ قائم کی جا سکتی ہے۔ اگر حضور نعوذ باﷲ یہ راہ اختیار کرتے تو اس میں شک نہیں کہ یہ ایک وطن دوست کی راہ ہوتی لیکن نبی آخر الزماں کی راہ نہ ہوتی۔ نبوت محمدیہ کی غایت الغایات یہ ہے کہ ایک ہیئت اجتماعیہ انسانیہ قائم کی جائے جس کی تشکیل اس قانونِ الٰہی کے تابع ہو جو نبوتِ محمدیہ کو بارگاہِ الٰہی سے عطا ہوا تھا۔
دیانتداری کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے محدود مفادات کے حصول کے لیے اقبال فروشی اور قومی مفادات پر اپنے ذاتی مفادات کو غالب رکھنے کے لیے تجاہلانہ اقبال فراموشی کی روش ترک کر دیں اور اقبال کے اصل چہرے سے عوام کو روشناس کرائیں چاہے اس سے ہمارے ذاتی مفادات پر زد ہی کیوں نہ پڑے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں