منگل، 11 نومبر، 2014

اقبال -جسے ہم نے فراموش کر دیا!

اقبال -جسے ہم نے فراموش کر دیا!

ڈاکٹر طاہر حمید تنولی

علامہ اقبال کی حیثیت ہماری ملی تاریخ میں بزرخی سنگ میل کی سی ہے۔ شاہ ولی اللہ کے بعد برصغیر میں اقبال وہ شخصیت ہیں جنہوں نے ہمیں تہذیبی سطح پر وہ شعور دیا جو قوموں کی زندگی ، بقا اور تسلسل کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ بطور قوم ہم نے اقبال کا تذکرہ ماند نہیں پڑنے دیا۔ ہمارا کم و بیش ہر مکالمہ اور ہر بیانیہ کسی نہ کسی حوالے سے اقبال سے ضرور متاثر اور متعلق ہوتا ہے۔ اور سال میں دو مواقع ایسے ضرور آتے ہیں جب اقبال کا ذکر پورے زور و شور سے کیا جاتا ہے۔ تا ہم اس کے ساتھ ہی ایک لمحہ فکریہ بھی ہے کہ ہم اقبال کے ذکر کو ایک رسمی انداز سے آگے نہیں بڑھا سکے۔ فکر اقبال کی جو تفہیم کی جانی چاہیے تھی وہ عامة الناس کی سطح پر تو کیا ہوتی، علمی اور تحقیقی اداروں میں بھی کما حقہ نہیں ہو سکی۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہماری قومی زندگی، ہمارا ملکی نظام اور اجتماعی اسلوب فکر و عمل فکر اقبال سے کوسوں دور ہے۔ قوم کشتہ سلطانی و ملائی و پیری کا اسی طرح منظر پیش کر رہی ہے جس طرح یہ سب کچھ اقبال کی اپنی زندگی میں تھا۔

حکیم الامت علامہ محمد اقبال کی فکر اور رہنمائی قیام پاکستان کی اساس ہے جس کا اعتراف بانی پاکستان حضرت قائداعظم نے بھی کیا۔ مگر نسل نو کو کبھی بھی ایک مربوط اور منظم انداز سے فکر اقبال سے روشناس کروانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ آج ہمیں جن طرح طرح کے چیلنجوں کا سامنا ہے، یہ تقاضا ماضی کی نسبت کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے کہ ہم اقبال کا تذکرہ صرف رسمی حد تک ہی محدود نہ رکھیں بلکہ فکر اقبال کو اپنے قومی نظام تعلیم و تربیت کا حصہ بنائیں۔
اس کا آغاز کہاں سے ہو؟ اس کے لیے ہمیں علامہ کی کم از کم وہ تحریریں جو ان کی فکر کی نمائیندہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے آج کے حالات سے بھی متعلق ہیں وہ ناگزیر طور پر ہمارے نصاب کا حصہ ہونے چاہئیں ۔ ان میں تین تحریریں نمایاں ہیں :خطبہ الہ آباد، ملت بیضاپر ایک عمرانی نظر اور اسلام اور قومیت۔خطبہ الہ آباد کو ہماری تحریک آزادی میں میگنا کارٹاکی حیثیت حاصل ہے۔ کیونکہ یہ وہ دستاویز ہے جس نے ہندوستان میں ایک آزاد اور الگ مسلم مملکت کے قیام کی نظریاتی ، دستوری اور عملی بنیاد یں فراہم کیں۔ علامہ پہلے مفکر ہیں جنہوں نے دور جدید میں مسلم تہذیب کی تقدیر کو ایک آزاد اور الگ مسلم ریاست کے قیام سے منسلک کرتے ہوئے قرار دیا کہ اسلام خود ایک تقدیر ہے اور اسے کسی دوسرے تقدیر کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام کا اخلاقی نصب العین اور سیاسی نظام ایک وحدت ہے۔ اسلام کا معاشرتی ڈھانچہ اس کے اخلاقی نصب العین اور اسلامی قانون کے تحت وجود میں آتا ہے۔ علامہ نے اس خطبے میں ہندوستان کی سیاسی کشمکش کو نظری مسئلے کی بجائے ایک زندہ اور عملی مسئلہ قرار دیا جس سے اسلام کے دستور حیات اور نظام عمل کے تار و پود متاثرہو سکتے ہیں۔ یہی وہ پس منظر تھا جس میں علامہ نے فرمایا کہ شمال مغربی ہندوستان میں ایک آزاد مسلمان مملکت کا قیام ہندوستان کے مسلمانوں کا مقدرہے۔ اگر ہم ماضی کی تاریخ کو دیکھیں تو حقیقت یہ ہے کہ خطبہ الہ آباد مسلم تہذیب، مسلم سیاست اور بحیثیت ملت اس کے سیاسی مستقبلکی تفہیم کی ایسی دستاویز ہے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اپنی اس بصیرت کی بنیاد پر اقبال نے اسلام کو مسلمانوں کی بقا کی اساس قرار دیا نہ کہ اس کے برعکس۔

علامہ کی دوسری تحریر ’ملت بیضا پر ایک عمرانی نظر ‘ہے۔ اس تحریر کی اہمیت موجودہ حالات میں اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے حل کردینے کی ضرورت ہے کہ قوم کیا ہوتی ہے اور کس طرح وجود میں آتی ہے۔ اور پاکستانی قوم بطور قوم کیا ہے؟ اس کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں؟ اور خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی کے تناظر میں پاکستانی قوم کی تعریف کیا ہوگی؟ اس مضمون میں علامہ فرماتے ہیں کہ مسلم قوم کے متعلق کوئی قطعی رائے قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان امور کو زیر غور لایا جائے: مسلم قوم کی ہیئتترکیبی، اسلامی تمدن کی یک رنگی اور مسلمانوں کی اس سیرت کا نمونہ جو مسلمانوں کے قومی وجود کے تسلسل کے لیے لازمی ہے۔ علامہ فرماتے ہیں کہ قومیت کا اسلامی تصور دوسری اقوام کے تصور سے بالکل مختلف ہے۔ ہماری قومیت کا اصول نہ اشتراک زبان ہے ،نہ اشتراک وطن اور نہ اشتراک اغراض اقتصادی۔ بلکہ ہم سب اس برادری کا حصہ ہیں جو جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمائی تھی۔ قومیت کے جدید تصور نے بین الاقوامی سطح پر قوموں میں غلط فہمیاں پیدا کی ہیں۔ اس سے پولیٹیکل سازشوں اور منصوبہ بازیوں کا بازار گرم ہواہے جبکہ اسلام دنیا میں اس طرح کے ہر شرک جلی و خفی کے خاتمے کے لیے آیا۔ اس تحریر میں علامہ نے اسلامی تمدن کی یک رنگی اور یکسانیت کو زندگی کے مختلف شعبوں میں مسلمانوں کے کارناموں کے ساتھ واضح کیا ہے۔ علامہ فرماتے ہیں کہ ہمیں ایسا اجتماعی کردار تشکیل دینا ہے جو ہمارے قومی وجود کے تسلسل کا باعث ہو۔ ہماری قومی سرگرمیوں کی محرک اقتصادی اغراض نہیں ہونی چاہئیں بلکہ قوم کی وحدت کی بقا اور اس کی زندگی کا تسلسل قومی آرزں کا ایک ایسا نصب العین ہے جو فوری اغراض کی تکمیل کے مقابلے میں زیادہ اشرف و اعلی ہے۔ علامہ فرماتے ہیں کہ ہماری قوم کا شیرازہ اسی وقت تک بندھا رہ سکتا ہے جب تک کہ ہم مذہب اسلام اور تہذیب اسلام کے ساتھ منسلک ہیں۔ ہمیں زندگی کے ہر شعبہ میں اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ہے مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ اگر ہم اچھے کاریگر، اچھے تاجر اور اچھے صنعتکار اور اچھے شہری پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ انہیں پہلے پکا مسلمان بنائیں۔

علامہ کی تیسری اہم تحریر ’اسلام اور قومیت ‘ہے۔ قومی سطح پر خلفشارکے موجودہ ماحول میں اس تحریر کی وہی اہمیت ہے جو ایک بیمار مریض کے لیے دوا کی ہے ۔ اس تحریر میں علامہ نے اسلام کے بنیادی سرچشموں کی روشنی میں مسلمان قوم کے اجتماعی وجود کے تعین کا حق ادا کر دیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ مسلمان قوم کو محدود ارضی وابستگی سے اپنی شناخت طلب نہیں کرنی چاہیے۔ وطن انسانی ہیئت اجتماعی کا ایک اصول ہے اور اس اعتبار سے جدید سیاسی تصور ہے مگر اسلام جو خود ہیئت اجتماعیہ انسانیہ کا قانون ہے، وطن بطور جدید سیاسی تصور کے اس سے متصادم ہے۔

علامہ فرماتے ہیں کہ مسلمان قوم ایک وحدت ہے۔ اور یہ کسی طور پر بھی ممکن نہیں کہ یہ دینی و شرعی لحاظ سے تو قوانین الہی کی پابند ہو مگر ملکی اور وطنی لحاظ سے کسی ایسے دستور عمل کی پابند ہو جو ملی دستور ی اصول سے مختلف بھی ہو ۔ بلکہ مسلمان قوم تو ایک ایسی ملت ہے جس میں قبیلہ، رنگ و نسل، زبان، وطن اور اس طرح کے ہزارہا پہلوں سے بالاتر ہو کر تمام افراد و گروہ یکجان و یک وجود ہوگئے ہیں۔ گویا ملت یا امت اقوام کی جاذب ہے اور خود ان میں جذب نہیں ہو سکتی۔ یہی وہ تصور ہے جو اس دعا سے بھی نمایاں ہوتا ہے جو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے تعمیر کعبہ کی تکمیل پر کی تھی۔

اس تحریر میں علامہ ایک بنیادی نکتے کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر اس طرح کی شناختوں پر رسول اللہ انحصار کر کے قوم کی تشکیل کرتے تو یہ راہ ایک وطن دوست کی راہ ہوتی نبی آخر الزمان کی راہ نہ ہوتی۔ کیونکہ نبوت محمدیہ کی غایت اور مقصود ہی یہ ہے کہ ایسی قوم تشکیل کی جائے کہ جو قانون الہی کی پابند ہو اور زمان، مکاں، وطن، نسل، نسب، زباں، جیسی محدود وابستگیوں سے بالا تر ہو۔ اگر یہی اعلی منزل تاریخی عمل کے ذریعے حاصل کرنا ہوتی تو اس کے لیے خدا جانے کتنی صدیاں درکار ہوتیں مگر آپ نے یہ کام صرف تیرہ برسوں میں مکمل کر دیا۔ اس تحریر میں علامہ نے ہندوستان کی تحریک آزادی میں مسلمانوں کی جدوجہد کا بھی یہی مقصد قرار دیا۔ فرمایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آزادی کے لیے جدوجہد سے اگر ہندوستان مکمل طور پر نہیں تو اس کا کوئی حصہ ہی ان اعلی انسانی اقدار کا مظہر بن جائے جو اسلام نے عطا کی ہیں ۔اگر آزادی ہند کا یہ نتیجہ ہونا ہے کہ جیسا اس کا حال اب ہے ویسا بعد میں بھی ہو یا اس سے بھی بدتر بن جائے تو مسلمان ایسی آزادی وطن پر ہزار بار لعنت بھیجتا ہے۔ ایسی آزادی کے لیے لکھنا، بولنا، روپیہ صرف کرنا، لاٹھیاں رکھنا، گولی کا نشانہ بننا سب کچھ حرام اور قطعی حرام سمجھتاہے۔

یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ قوم کا جو تصور بانیان پاکستان کے پیش نظر تھا اور جس کی وضاحت علامہ کی مذکورہ بالا تحریروں میں موجود ہے، آج ہم اس سے کتنا دور ہو چکےہیں ۔سبب وہی کہ ہم نے نہ اس تصور کی اہمیت محسوس کی نہ اسے قومی نظام تعلیم و تربیت میں شامل کرکے نسل نو کے شعور کا حصہ بنایا۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اس کوتاہی کا ازالہ کریںاور ان خطرات کے سامنے بند باندھیں جو مسلسل ہمارے قومی وجود کا شیرازہ بکھیررہے ہیں۔ اس وقت جب کہ وزیر اعظم پاکستان نے بھی اپنے ایک بیان میں قومی تعلیمی نصاب کی تشکیل نو اور اسے قومی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی بات کی ہے ہمیں اقبال کی مذکورہ بالا تین تحریریں ہمیں سوئے منزل گامزن کر سکتی ہیں۔

جمعہ، 31 اکتوبر، 2014

The Message of Kerbala


The Message of Kerbala

خاست آں سر جلوۂ خیر الامم
چوں سحاب قبلہ باراں در قدم
بر زمین کربلا بارید و رفت
لالہ در ویرانہ ہا کارید و رفت
تا قیامت قطع استبداد کرد
موج خون او چمن ایجاد کرد
بہر حق در خاک و خوں غلطیدہ است
پس بناے لا الہ گردیدہ است
اقبال

Like a rain-charged cloud
The effulgence of the best of peoples rose
Out of the West, to spill on Kerbala,
And in that soil, that desert was before,
Sowed, as he died, a field of tulip-blood.
There, till the Resurrection, tyranny
Was evermore cut off; a garden fair
Immortalizes where his lifeblood surged.
For Truth alone his blood dripped to the dust,
Wherefore he has become the edifice

Of faith in God’s pure Unity.

منگل، 28 اکتوبر، 2014

جدا ہو دین سیاست سے!


جدا ہو دین سیاست سے!

علامہ کا یہ معروف شعر پڑھتے ہی ذہن میں مسلم معاشرے کے لیے دین و دنیا کی وحدت و یکتائی کا احساس پیدا ہوتا ہے مگر یہاں ہماری مراد اس شعر کے دوسرے مصرعے کے نصف اول کا اثباتی و ایجابی مفہوم ہے کہ ہمارے معاشرے میں دین و سیاست جس طرح اب قریب ہو رہے ہیں کاش یہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں اور ان کی یکتائی، وحدت اور قربت کا جو اسلوب بن رہا ہے وہ آگے نہ پنپے۔

سیاست اور دین کی قربت کے کئی مفاہیم ہیں۔ جو قابل تعریف بھی ہیں اور قابل احتراز بھی۔ تاہم ان میں سے ایک پہلو دینی تصورات، اصطلاحات اور کلمات کا سیاست میں محض سیاسی اور وقتی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال ہے۔ اگر تو یہ رویہ ایک وقتی اور عمومی روش کی حد تک رہتا تو نظر انداز کیا جا سکتا تھا مگر جب یہ رویہ ملک کے اعلیٰ ترین سیاسی منصبوں پر فائز شخصیات بشمول صدر اور وزیر اعظم کے ہاں نظر آنے لگے تو اس کے اسباب اور اثرات کی زیر غور لانا ضروری ہو جاتا ہے کچھ عرصہ قبل سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ سیاسی معاہدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے کہ انہیں ایسا ہی تقدس اور اہمیت دی جائے۔ حال ہی میں موجودہ سیلاب کے بحران کے دوران جھنگ کے علاقے جنڈیانہ میں خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ قومی خزانے میں خورد برد کرنا ہمارے نزدیک حرام ہے۔ وزیر اعظم کے بیان میں "حرام" کے لفظ کے استعمال کا اثر تھا کہ اگلے دن یعنی 12 اکتوبر 2014ء کے اکثر اخبارات نے اسے شہ سرخی کے طور پر شائع کیا۔ صاف ظاہر ہے کہ ملک میں جاری سیاسی بیانیے کی شدت سے متاثر ہو کر یا اس شدت کے اثر کو کم کرنے کے لیے وزیر اعظم نے بھی اسی لہجے اور انہی کلمات میں خطاب کیا۔ جبکہ ان کی عمومی گفتگو اور اس سے پہلے کی تقریروں میں اس طرح کا لہجہ نظر نہیں آتا۔

وزیر اعظم کی طرف سے اپنی تقریر میں اپنے یا اپنی کابینہ کے کسی عمل کو حرام قرار دینا اس لیے بھی صد بار قابل غور امر ہے کہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق حرام کے لفظ کی معنویت ہم سے زندگی میں کمال احتیاط کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر ہم کسی عمل کو حرام قرار دیتے ہیں اور شعوری طور پر اسے حرام سمجھتے ہیں اور پھر بھی اس کا ارتکاب کرتے ہیں تو قرآن حکیم نے سورہ توبہ کی آیت 37 میں اس طرز عمل کو فیُحِلوا مَا حَرمَ اللہُ )پس یہ لوگ اس بات کو حلال قرار دے لیتے ہیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے( فرما کر اسے کفار کا کردار قرار دیا ہے۔ اور پھر حرام کا ارتکاب حدود اللہ کی پامالی کے مترادف ہے۔ جس کا انجام انفرادی اور قومی سطح پر تباہی اور بربادی ہے۔ )ملاحظہ ہو سورہ الطلاق، آیت۱ (

موجودہ سیاست کو بغیر کسی احتیاط اور احساس ذمہ داری کے مذہبی کلمات اور اصطلاحات کے استعمال کاتحفہ مذہبی سیاستدانوں نے دیا کہ وہ اصطلاحات اور کلمات جن کے ساتھ دینی حرمت، تقدس اور معنویت وابستہ تھی اسے سیاسی بیانیہ کا حصہ بنا دیا۔ کربلا، یزید، کافر، طاغوت، قبر، کفن، حرام، واجب، طلاق اور جنازہ اور اس طرح کے کتنے ہی الفاظ ہیں جو مذہبی سیاست کے روزن سے ملک کی معمول کی سیاست کے میدان میں بتدریج داخل ہو رہے ہیں اور پھر اس کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ اس رویے پر اس لیے بھی نظرثانی کرنا ضروری ہے کہ ان الفاظ کو استعمال کرتے ہوئے ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ہم ایک مسلمان معاشرے کا حصہ ہیں اور ہماری جدوجہد بھی اس معاشرے کے مختلف طبقوں اور افراد کے ساتھ یا ان کے خلاف ہے۔ اگر تو یہ سیاسی جدوجہد ایک کافرانہ معاشرے میں ہوتی اور مسلم سیاستدانوں کے مقابل غیر مسلم اور کافر مخالفین ہوتے تو شایدپھر اس لہجے کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا تھا۔ جبکہ موجودہ صورت میں اس سے دو بڑے نقصان ہونا لازمی ہیں:

اولاً یہ کہ اس لہجے اور مذہبی انداز میں سیاسی ما فی الضمیر کو بیان کرنے سے معاشرہ سیاسی انتہا پسندی کا شکار ہو جائے گا۔ مذہبی قائدین اپنی نیک نیتی کے باوجود جن مقاصد کے لیے اس لہجے کو اپنا رہے ہیں ان مقاصد کا حاصل ہونا تو یقینی نہیں مگر یہ امر ضرور یقنی ہے کہ ان کی جماعتوں کے کارکن اور پیروکار اپنے سیاسی مخالفین کو مذہبی اور دینی مخالفین سمجھیں گے اور ان سے مذہبی جذبے کی حامل جس سیاسی انتہا پسندی کا رویہ اپنائیں گے وہ ہمارے معاشرے کو سماجی و معاشرتی برداشت اور اعتدال و توازن سے مستقل طور پر محروم کر دے گا۔

ثانیاً یہ کہ ہر مذہبی اصطلاح کے ساتھ ایک حرمت اور تقدس وابستہ ہوتا ہے جب ان اصطلاحات اور الفاظ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا اس سے سیاسی جدوجہد اور طرز عمل میں کوئی احتیاط، تقدس یا حرمت کی روح پیدا ہو یا نہ ہو مذہبی حوالے سے تقدس اور حرمت کا پہلو ضرور مسخ اور مجروح ہو گا اور ظاہر ہے اس سے معاشرہ جس اخلاقی بحران اور دینی نقصان کا شکار ہو گا، اس کا ازالہ بہت مشکل ہو گا۔ کیونکہ خرابی پیدا تو فوراً ہوتی ہے مگر اس کا ازالہ بعض اوقات کئی نسلوں میں کرنا بھی محال ہوتا ہے۔

یہاں تحریک پاکستان کے قائدین کو بھی خراج تحسین پیش کرنے کو جی چاہتا ہے کہ باوجود ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہوئے جس کے خلاف وہ حقیقتاً ایک نظریاتی، تہذیبی اور دینی جدوجہد کر رہے تھے اتنے وفور اور کثرت کے ساتھ انہوں نے مذہب کا استعمال نہیں کیا جس فراخ دلی اور اسراف سے آج ہم ایک مسلم معاشرے کا حصہ ہوتے ہوئے کر رہے ہیں اور اگر ہماری یہی روش جاری رہی تو اس امکان کو رد کرنا محال ہو جائے گا کہ قرآن حکیم کی آیات و تعلیمات کا اطلاق و انطباق بے محل ہونے لگے۔ خدا نخواستہ نوبت یہاں تک پہنچی تو قرآن حکیم کے الفاظ میں ہمیں اس عمل کے نتیجے میں تین طرح کی عقوبت سے دوچار ہونا پڑے گا۔

"---- وہ لوگ جو )اللہ کی کتاب کے( الفاظ کا موقع محل طے ہو جانے کے بعد بھی ان میں تحریف کرتے ہیں ------ یہ وہ لوگ ہیں کہ  )ان کی نافرمانی کی وجہ سے( اللہ نے ان کے دلوں کو پاک کرنے کا ارداہ نہیں کیا، ان کے لیے دنیا میں رسوائی اور ان کے لیے آخرت میں زبردست عذاب ہے۔" )المائدہ:۴۱ (

دین و سیاست کے ایک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہماری سیاست دین کی عطا کی ہوئی اقدار اور معیار کی پابند ہو، اس میں دیانت، سچائی، شفافیت ، ایفائے عہد اور ذاتی مفاد کو قومی اور اجتماعی مفاد پر قربان کرنے کا طرز عمل موجود ہو نہ یہ کہ دینی تصورات کی آڑ میں سیاسی مقاصد کے حصول کو نصب العین بنا لیا جائے اور سادہ لوح عوام کا دین کے نام پر استحصال کیا جائے۔

آج ہمیں اپنے سیاسی قائدین خصوصاً مذہب کے پس منظر کے ساتھ سیاست کرنے والے قائدین سے یہ بجا طور پر کہنا ہے  کہ وہ قوم کے سیاسی، معاشی ور انتظامی مسائل کے حل کے لیے ضرور کوشش کریں اور نتیجہ خیز کوشش کریں مگر اس سے بڑھ کر ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قوم کو ہر حوالے سے خصوصاً مذہبی و دینی حوالے سے مسخ شدہ اور عدم برداشت و عدم اعتدال پر مبنی رویوں سے محفوظ رکھنے کی سعی بھی کریں تاکہ ان کی کسی ہنگامی سیاسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کیے گئے اقدام سے معاشرہ اجتماعی اخلاقیات سے محروم نہ ہو۔

جمعہ، 24 اکتوبر، 2014

علامہ اقبال کے ایک شعر کی تشریح

قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

یہ شعر علامہ محمداقبال کی کتاب ضرب کلیم کی نظم مرد مومن کا دوسرا شعر ہے۔ جیسا کہ اس نظم کے عنوان سے واضح ہے کہ پوری نظم اس مثالی مرد مومن کے کردار کے مختلف پہلووں کو بیان کرتی ہے۔ مرد مومن اقبال کی شاعری کے مرکزی تصورات میں سے ایک تصور ہے۔ سو اس لحاظ سے یہ شعر اپنے اندر دو بنیادی تناظر رکھتا ہے۔ اولا ًیہ کہ مسلمان کے کردار کی تشکیل کے لیے چار بنیادی اوصاف ضروری ہیں جو اس کے پہلے مصرعے میں بیان کیے گئے ہیں۔ یہ چاروں اوصاف کردار کے جلالی اور جمالی دونوں پہلووں کا حاطہ کرتے ہیں۔ ان اوصاف کے بیان کی ترتیب بھی اقبال کی فکر کی عکاس ہے اور وہ اس شعر کا دوسرا تناظر ہے۔ یعنی اقبال نے اس شعر کے پہلے مصرعے میں بیان کردہ چاروں اوصاف کی ترتیب اور عنوان و مضمون قرآن حکیم کی ایک آیت سے اخذ کیے ہیں اور یہ اقبال کی فکر کا امتیاز ہے کہ وہ اپنے ہر تصور کی تشکیل قرآن حکیم ہی کی رہنمائی میں کرتے ہیں۔ اس شعر کے پہلے مصرعے میں بیان کردہ چاروں اوصاف کا ماخذ سورہ فتح کی آیت 29 ہے:

مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنْ اللَّهِ وَرِضْوَاناً۔
ترجمہ: محمد اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ آپ کی معیت میں ہیں )وہ( کافروں پر بہت سخت اور زور آور ہیں آپس میں بہت نرم دل ہیں۔ آپ انہیں کثرت سے رکوع کرتے اور سجود کرتے ہوئے دیکھتے ہیں وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے طلب گار رہتے ہیں۔

اس آیت کی روشنی میں بندہ مومن کے اوصاف یہ ہیں:

      1-     أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ: قہاری
      2-     رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ: غفاری
      3-     تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً: قدوسی
      4-     يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنْ اللَّهِ وَرِضْوَاناً: جبروت

یہاں ہمیں یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ اس آیت مبارکہ کا آغاز مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ سے ہو رہا ہے۔ یعنی بندہ مومن کا کردار جو ان چار اوصاف پر مشتمل ہو گا،  اس کی اساس نسبت رسالت پر استوار ہو گی۔ جسے اقبال نے اپنے دیگر کئی اردو اور فارسی اشعار میں بیان کیا ہے۔

جمعرات، 23 اکتوبر، 2014

اقبال فروشی اور اقبال فراموشی

ہمارے معاشرے کے فکر ی قحط کا یہ عالم ہے کہ اہل دانش اور اہل قلم جن سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ معاشرے میں کسی صحت مند مکالمے کے آغاز کا باعث بنیں گے، اکثر و بیشتر منفی پراپیگنڈے اور مباحثے کا باعث بنتے نظر آتے ہیں۔ یہاں اکثر و بیشتر قومی امور مثلاً نظریہ پاکستان ، قائد اعظم کی شخصیت و خدمات، اور اقبال کی فکر، شاعری اور ان کے جذبہ حریت کو موضوع بحث بنا کر فکری انتشار پیدا کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اقبال کی ملی خدمات اور تشخص روز روشن کی طرح عیاں ایسی حقیقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔ تاہم المیہ یہ ہے کہ ہم یا تو اقبال کے افکار کو اپنا ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں یا پھر اپنے چھوٹے قد کو بڑا کرنے کے لیے اقبال کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ کاش ہم اقبال کے ان افکار کا بھی جائزہ لیتے جن کا تعلق ہمارے مسائل کے حل سے ہے چاہے ان کا جائزہ تنقیدی انداز سے ہی لیا جاتا۔
ہماری تاریخ گواہ ہے کہ شعوری طور پر یہ کوششیں کی گئی ہیں کہ اقبال کے افکار قوم کی نگاہوں سے اوجھل ہی رہیں اور اصل اقبال متعارف نہ ہو ۔ کیونکہ جس دن قوم میں اقبال کی حقیقی فکر فروغ پذیر ہو گئی مذہب، روحانیت اور نام نہاد خدمت کے نام کی سیاست کی دکانیں بند ہو جائیں گی اور قوم کو گزشتہ کئی دہائیوں سے بے وقوف بنانے کا سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا۔ اقبال کی ساری زندگی قوم کو انہی خامیوں سے آگاہ کرنے اور قومی مفاد کے لیے جدوجہد کرتے گزری۔ تاریخ کے کسی واقعہ کی آڑ لے کر اور تاریخی حقائق کو پس منظر سے ہٹا کر بیان کرنے سے اقبال کاتسخص مسخ نہیں کیا جا سکتا۔
سر سکندر حیات نے انٹر کالجیٹ مسلم برادر ہڈ لاہور کے نام پیغام میں کہا کہ ہمیں اقبال کی علمی اورملی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی خدمت میں بصورت زر خراج تحسین پیش آنا چاہیے۔ اس پرعلامہ نے جوابی بیان دیا جو اخبارات میں ۱۰دسمبر ۱۹۳۷ءکو شائع ہوا۔ اس بیان میں علامہ نے فرمایا کہ عوام کی ضروریات بحیثیت مجموعی کسی ایک فرد کی ضروریات سے کہیں زیادہ اہم ہوتی ہیں۔ خواہ اس کی تصانیف عامۃ الناس کے لیے روحانی فیضان کا ذریعہ ہی کیوں نہ ہوں۔ ایک شخص اور اس کی ضروریات ختم ہو جاتی ہیں لیکن عوام اور ان کی ضروریات ہمیشہ باقی رہتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی علامہ نے تجویز پیش کی کہ وزیر اعظم سر سکندر حیات انہیں بصورت زر کوئی ہدیہ پیش کرنے کی بجائے اسلامیہ کالج لاہورمیں ایسا تحقیقی شعبہ قائم کریں جو نہ صرف پنجاب بلکہ ہندوستان کے عوام کی تحقیقی ضروریات پوری کرے۔ اس کے ساتھ علامہ نے خود بھی اس شعبے کے قیام کے لیے اس فنڈ میں اپنی طرف سے سو روپے پیش کیے۔ کیا ہم نے علامہ کے اس کردار کو عام کرنے کی کوشش کی کہ ہمارے رہنما قومی ترجیحات کو ذاتی ترجیحات پر ترجیح دیں؟ علامہ کے اس کردار کو عوام میں عام کرنے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے نہ صرف اپنے نصب اور اثر و رسوخ کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ اکثرجائز مفادات کو بھی ترک کردیا۔ علامہ کا ذریعہ آمدنی وکالت تھا۔ وہ ہندوستان کی معروف ترین شخصیت اور قابل بیرسٹر تھے۔ اگر وہ اس پیشے کو بھی کل وقتی طور پر اختیار کرتے و بیش بہا سرمایہ کما سکتے تھے۔ مگر انہوں نے اپنے معاون منشی طاہر الدین کو ہدایت دے رکھی تھی کہ جب کسی مقدمے میں۵۰۰  روپے فیس آجائے تو اس کے بعدوہ کوئی کیس نہ لیں کیونکہ ۵۰۰ روپے ان کے ماہانہ اخراجات کے لیے کافی ہیں۔ بقیہ وقت وہ قومی امور پر صرف کرتے تھے۔
مجلس قانون ساز کا رکن ہونے کے دوران بھی اقبال کی کاوشیں عام آدمی کو تحفظ فراہم کرنے اور انہیں حقوق دلوانے کے لیے تھیں۔ ہمارے ایسے اہل قلم جو رکن اسمبلی بھی رہ چکے ہیں، نے کبھی علامہ کی ان کاوشوں کو موضوع بحث نہیں بنایا۔ اگر اقبال کے پارلیمانی زندگی اور اسمبلی میں قانون سازی کی کاوشوں کو ہی ہم نے عام کیا ہوتا اور ان خطوط پر قانون سازی کے عمل کو آگے بڑھاتے تو استعمار کے دور کے بعد سے ہمیں منتقل ہونے والے نظام کی اصلاح کا عمل بھی آگے بڑھتا۔ یہاں ہم بطور مثال پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی میں علامہ کی ۲۳ فروری ۱۹۲۸ءکی تقریر کا حوالہ دیتےہیں جو علامہ نے انکم ٹیکس کے اصولوں کو لینڈ ریونیو پر عائد کرنے کی قراردار پر کی۔ علامہ نے اپنی اس تقریر میں ہر اس ضابطے کی سختی سے مخالفت کی جو انصاف کے تقاضوں کے منافی اور عام کاشتکار کے لیے خود کشی کا باعث ہو۔ علامہ نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ محاصل اراضی سے متعلق جو بھی قانون بنایا جائے چاہے وہ قابل عمل ہو اور اس کی پشت پر دیرینہ روایات بھی موجود ہوں مگر اسے نافذ کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا وہ مبنی بر انصاف اور غریب کاشتکاروں کے لیے معاشی امکانات کا حامل نبھی ہے یا نہیں۔ علامہ نے تجویز پیشکی کہ ایسے اقدامات درکار ہیں جن سے چھوٹے زمینداروں کے لےے جن کی زمینی پیداوار ان کے خاندان کی پرورش کے لیے بھی قطعی ناکافی ہے کوئی بہتری کی صورت نکل سکے۔
زمین سے استفادہ کے بارے میں بھی اقبال کے موقف کو کبھی عام نہیں کیا گیا کیونکہ اس موقف کو عام کرنے میںجاگیرداریت اور سرمایہ داریت کی موتہے۔ بال جبریل میں علامہ فرماتے ہیں:

پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون
کون دریاوں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب؟
کون لایا کھینچ کر پچھم سے بادِ سازگار
خاک یہ کس کی ہے، کس کا ہے یہ نورِ آفتاب؟
کس نے بھر دی موتیوں سے خوشہ گندم کی جیب
موسموں کو کس نے سکھائی ہے خوئے انقلاب؟
دہ خدایا! یہ زمیں تیری نہیں، تیری نہیں
تیرے آبا کی نہیں، تیری نہیں، میری نہیں

اقبال نے مُلاپرزندگی بھر تنقید کی اور مُلائیت کے اثرات سے قوم کو نکالنے کی جدوجہد کی۔ آج اقبال کا کلام ہر منبر و محراب کی زینت ہے ۔ مگر یہاں اقبال کے صرف ان تصورات کو بیان کیاجاتا ہے جو ہمارے ذاتی ایجنڈے کی تکمیل میں ممد و معاون ہیں۔ عشق رسول اقبال کی پہچان ہے۔ بلکہ اگردور حاضر میں مجسمہ عشق رسول کا تصور کریں تو اقبال کی شخصیت سامنے آتی ہے۔ اقبال کے یہ اشعار زبان زد عام ہیں:

تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
ور تو می بینی حسابم ناگزیر
از نگاہ مصطفی پنہاں بگیر

     لیکن اقبال کس عشق رسول کی قائل تھے، اسے نہ تو ہم نے کبھی سمجھنے کی کوشش کی نہ ہی عام کرنے کی۔ اس کا ایک رخ یہ ہے کہ نواب بھوپال نے علامہ کو کسی معاملے میں مشورے کے لیے بلایا۔ جب علامہ بھوپال تشریف لے گئے تو رات آرام کے لیے انہیں اس کمرے میں لے جایا گیا جو ان کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ جب علامہ نے کمرے کے نرم و دبیز بستر اور پر آسائش ماحول کو دیکھا تو آبدیدہ ہو گئے۔ علی بخش کو بلایا اور اسے حکم دیا کہ وہ ان کا لایا ہوا اپنا بستر برآمدے میں چھا دے۔ علامہ نے فرمایا کہ جس رسول گرامی کے تصدق سے انہیں ایمان اور دین کی دولت ملی وہ تو بغیر بسترچارپائی پر آرام فرمائیں اور میں ایسے پر تعیش ماحول میں! کیا ہمارے نمائندگانِ دین کی زندگی ہی عشق رسول کا یہ رنگ نظر آتا ہے؟سچ تو یہ ہے کہ ہم نے عشق رسول کو صرف قوم کے جذباتی استحصال کا ذریعہ بنایا ہے اور اس جذبے کو قومی کردار کی تشکیل کی راہ پر نہیں ڈالاکیونکہ اس سے ہماری آسائشوں اور ذاتی نمود و نمائش پرزد پڑتی ہے۔
پاکستان کے قیام سے اقبال کس قومی مقصد کا حصول چاہتے تھے؟ قائد اعظم کے نام اقبال کے خطوط ، ان کی شاعری، سیاسی بیانات، تقاریر اور تحریریں اس کی تفصیل بیان کر تی ہیں۔ یہاں صرف ایک نکتے کی طرف اشارہ کافیہو گا کہ علامہ پاکستان کے قیام کے ذریعے اسلام کے عقیدہ توحید کے عملی نفاذ کے متمنی تھے۔ علامہ فرماتے ہیں:
بالفاظ دیگر یوں کہیے کہ بنی نوع انسان کی اقوام کو باوجود شعوب و قبائل اور الوان و السنہ کے اختلافات کو تسلیم کر لینے کے ان کو ان تمام آلودگیوں سے منزہ کیا جائے جو زبان، مکان، وطن، نسل، نسب، ملک وغیرہ کے ناموں سے موسوم کی جاتی ہیں اور اس طرح پیکر خاکی کو وہ ملکوتی تخیل عطا کیا جائے جو اپنے وقت کے ہر لحظہ میں ”ابدیت“ سے ہمکنار رہتا ہے اور یہ ہے مقام محمدی، یہ ہے نصب العین ملت اسلامیہ کا اس کی بلندیوں تک پہنچنے تک معلوم نہیں حضرتِ انسان کو کتنی صدیاں لگیں مگر اس میں بھی شک نہیں کہ اقوام عالم کی باہمی مغائرت دور کرنے اور باوجود شعوبی، قبائلی، نسلی، لونی اور لسانی امتیازات کے ان کو یک رنگ کرنے میں اسلام نے وہ کام تیرہ سو سال میں کیا ہے جو دیگر ادیان سے تین ہزار سال میں بھی نہ ہو سکا یقین جانیے کہ دین اسلام ایک پوشیدہ اور غیر محسوس حیاتی اور نفسیاتی عمل ہے جو بغیر کسی تبلیغی کوششوں کے بھی عالم انسانی کے فکر و عمل کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایسے عمل کو حال کے سیاسی مفکرین کی جدت طرازیوں سے مسخ کرنا ظلم عظیم ہے نبی نوع انسان پر اور اس نبوت کی ہمہ گیری پر جس کے قلب و ضمیر سے اس کا آغاز ہوا۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر اس سیاسی تصور کو عام کیا جاتا تو پاکستان میں علاقائی، نسلی، لسانی بتوں کے تراشنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہتی اور پاکستانی قوم اقوام عالم میں ایک جسد واحد بن کر سامنے آتی:
حضور رسالتمآب کے لیے یہ راہ بہت آسان تھی کہ آپ ابو لہب یا ابو جہل یا کفارِ مکہ سے یہ فرماتے کہ تم اپنی بت پرستی پر قائم رہو ہم اپنی خدا پرستی پر قائم رہتے ہیں مگر اس نسلی اور وطنی اشتراک کی بنا پر جو ہمارے اور تمہارے درمیان موجود ہے ایک وحدت عربیہ قائم کی جا سکتی ہے۔ اگر حضور نعوذ باﷲ یہ راہ اختیار کرتے تو اس میں شک نہیں کہ یہ ایک وطن دوست کی راہ ہوتی لیکن نبی آخر الزماں کی راہ نہ ہوتی۔ نبوت محمدیہ کی غایت الغایات یہ ہے کہ ایک ہیئت اجتماعیہ انسانیہ قائم کی جائے جس کی تشکیل اس قانونِ الٰہی کے تابع ہو جو نبوتِ محمدیہ کو بارگاہِ الٰہی سے عطا ہوا تھا۔
دیانتداری کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے محدود مفادات کے حصول کے لیے اقبال فروشی اور قومی مفادات پر اپنے ذاتی مفادات کو غالب رکھنے کے لیے تجاہلانہ اقبال فراموشی کی روش ترک کر دیں اور اقبال کے اصل چہرے سے عوام کو روشناس کرائیں چاہے اس سے ہمارے ذاتی مفادات پر زد ہی کیوں نہ پڑے۔